![]() |
| فوٹو: اے ایف پی/رائٹرز/ |
امریکی سپریم کورٹ نے امریکا میں پیدائش پر شہریت کے حق (برتھ رائٹ سٹیزن شپ) کو محدود کرنےکا صدارتی حکم نامہ مسترد کردیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کا 3-6 کی اکثریت سے دیا گیا یہ فیصلہ رواں سال میں دوسرا موقع ہے جب عدالت نے ٹرمپ کی کسی بڑی پالیسی کو کالعدم قرار دیا ہے۔ اس سے قبل امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے عالمی تجارتی ٹیرف کو کالعدم قرار دیا تھا۔
امریکی سپریم کورٹ نے ماتحت عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں ٹرمپ کے صدارتی حکم نامےکو روکا گیا تھا۔
اس صدارتی حکم نامے میں امریکی اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایسے بچوں کو امریکی شہریت نہ دیں جو امریکا میں پیدا ہوئے ہوں لیکن ان کے والدین نہ تو امریکی شہری ہوں اور نہ ہی قانونی طور پر مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈر) ہوں۔
ٹرمپ کے حکم کے خلاف درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ اقدام امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے جو امریکا میں پیدا ہونے والے افرادکو شہریت دینے کی ضمانت دیتی ہے۔
U.S. Supreme Court votes to uphold Birthright Citizenship in a 5-4 ruling، strucking down President Donald Trump's executive order pic.twitter.com/WOX8WPmE2a
— PakMedia24.com (@pakmedia24com) June 30, 2026
درخواست گزاروں نے مزیدکہا کہ سپریم کورٹ اس معاملے پر پہلے ہی 1898 کے تاریخی مقدمے میں فیصلہ دے چکی ہے، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ 14ویں ترمیم کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے افراد کو شہریت حاصل ہوتی ہے چاہے ان کے والدین غیر ملکی ہی کیوں نہ ہوں۔
ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دے دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہےکہ پیدائشی شہریت کا حق برقرار رکھنا ہمارے ملک کے لیے بہت افسوسناک ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہےکہ ہم کانگریس میں قانون سازی کے ذریعے اپنے فیصلےکو با آسانی پورا کرسکتے ہیں، اس میں کسی طویل اور پیچیدہ آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں، کانگریس کو پیدائشی شہریت کا حق ختم کرنے کے لیے آج ہی سے کام شروع کر دینا چاہیے۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ پیدائشی شہریت کا حق ہمارے ملک کے لیے مہنگا اور غیر منصفانہ ہے، کانگریس کو میری مکمل اور بھرپور حمایت حاصل ہوگی۔
