کراچی رہائش کے اعتبار سے دنیا کے بدترین شہروں میں شامل

 


ورلڈ اکانومک انڈیکس نے رہائش اور دیگر وسائل و سہولیات  پر مشتمل شہروں کی عالمی درجہ بندی کی فہرست جاری کی ہے۔جس میں رہائش کے اعتبار سے دنیا کے 173 بدترین شہروں میں کراچی کا شمار 170 ویں نمبر پر کیا گیا ہے.

 گزشتہ کچھ سالوں کی طرح اس سال بھی کراچی رہائش کے اعتبار سے دنیا کے بدترین شہروں میں شامل ہے۔  اس کی بنیادی وجہ برسوں سے جاری شہری مسائل جن میں انفراسٹرکچر کا ناقص یا نہ ہونا، پینے کا صاف پانی، سانس لینے کے لئے صاف آب و ہوا شامل ہیں۔

 شہر میں جاری نام نہاد ترقیاتی منصوبوں کا وقت پر مکمل نہ ہونا بھی ایک بڑا چیلنج ہے جس نے ایک عام شہری کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ انہیں منصوبوں میں سے ایک بدنام زمانہ یونیورسٹی روڈ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ بھی شامل ہے۔

یونیورسٹی روڈ جو آج سے پانچ چھے سالوں تک ایک کشادہ اور ہری بھری شاہراہ تھی آج کسی کھنڈرات کے منظر سے کم نہیں، جگہ جگہ کھدائی، کھڈوں بھرا روڈ، ریت اور مٹی کا گرد و غبار جس نے نہ صرف یہاں سے گزرنے والوں کی زندگی کو مشکل میں ڈال رکھا ہے بلکہ اردگرد کے کاروباری مراکز کا کاروبار بھی ٹھپ کرکے رکھ دیا ہے۔

 اس شاہراہ کے اطراف ملک کی کئی معروف جامعات بھی ہیں جن میں جامعہ کراچی اور این ای ڈی یونیورسٹی شامل ہیں، طالب علموں کو بھی شدید ازیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ 

 یونیورسٹی روڈ جس کا کام 2022 میں شروع ہوا جسے دو ڈھائی سال تک مکمل ہونا تھا، آج چار سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی ادھورا ہے اور منصوبے کی کوئی شکل بھی نظر نہیں آسکی۔

 سندھ حکومت نے پہلے اس روڈ کا کام ایک کانٹریکٹر کو دیا تھا تاہم کام کی سست روی اور وقت کے ضیاع کے باعث اس کانٹریکٹر سے پیچھا چھڑوا کر کام ایف ڈبلیو او، وہ ادارہ جس نے ملک میں کئی اہم شاہراہیں اور موٹرویز بنوائیں ہیں، کو دے دیا گیا جس کے بعد اب صورتحال یہ ہے کہ کچھ کام ہوتا نظر آرہا ہے لیکن یہ منصوبے کب مکمل ہوگا یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
اشتہار