![]() |
| یو ایس سینٹرل کمانڈ( سینٹ کام) کے مطابق کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر امریکی افواج نے ایران کے خلاف مزید حملے شروع کر دیے ہیں۔ فائل فوٹو |
امریکی فوج اور ائیرفورس نے ایران پر شدید فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔
یو ایس سینٹرل کمانڈ( سینٹ کام) کے مطابق کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر امریکی افواج نے ایران کے خلاف مزید حملے شروع کر دیے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ یہ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور عملے پر ایران کے حالیہ بلا جواز حملوں کے ردعمل میں کیے جا ر ہے ہیں ۔
At the direction of the Commander in Chief, U.S. Central Command forces have started conducting additional strikes against Iran to further degrade their ability to threaten freedom of navigation in the Strait of Hormuz. The United States is holding Iran accountable for recent…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 8, 2026
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا، بین الاقوامی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ میں آزادانہ طور پر سفر کرنے والے تجارتی جہازوں اور ان کے شہری عملے کے خلاف حالیہ بلاجواز جارحیت پر ایران کو جواب دہ ٹھہرا رہا ہے۔
امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف آج کے حملے منگل کو کیے گئے حملوں کی نسبت زیادہ بڑے پیمانے پر ہونے کی توقع ہے۔
ایرانی شہروں بندر عباس، سرک، کونارک اور چا بہار میں دھماکے سنے گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق چابہار میں دھماکوں کے بعد بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے، بوشہر صوبے کے قریب بھی دھماکے سنے گئےہیں۔ بوشہر پر امریکی حملے سے جوہری پاور پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
چا بہار پر امریکی حملے کے باعث پروجیکٹائل کا ٹکڑا امام علی اسپتال پر گرا ہے، ایران کے ابوموسی جزیرے میں بھی دھماکے سنےگئےہیں۔
ایرانی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ ایرانی فورسز جلد امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بڑے حملے شروع کریں گی۔
