کراچی: پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کو بڑی تباہی سے بچاتے ہوئے دہشتگردوں کی جانب سے خودکش حملے لیے تیار کی گئی کم عمر لڑکی کو ریسکیو کرلیا۔
ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سی ٹی ڈی آزاد خان اور کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بچی سے رابطہ کیا گیا، دہشت گردوں کی جانب سے کہانیاں سنائی گئیں اور اس بچی کی ذہن سازی کی گئی۔
انہوں نے کہا کوشش کی ہے اس بچی کے اہلخانہ اور ایڈریس کو سامنے نہ لےکر آئیں، حکومت ان کی بہتری کے لیے انتظام اور مدد کرے گی یہ ہماری ترجیح ہے، چاہتے ہیں کہ پہلے اس بچی اور اس کے گھر والوں کی جان کی حفاظت ہو۔
بی ایل اے نے اسکول کی طالبہ کو ٹریپ کرکے خودکش بمبار بنانے کی کوشش کی،سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے خاتون خودکش بمبار بننے سے بچ گئی،وزیر داخلہ سندھ کی اہم پریس کانفرنس pic.twitter.com/AC0E17VEQv
— Balochistan Insight (@BalochInsight) December 29, 2025
وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا دہشت گردوں کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے، یہ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے اسٹیٹ کیخلاف جھوٹا بیانیہ بناتے ہیں، والدین بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر نظر رکھیں، بلوچ عوام اس طرح کی دہشتگرد تنظمیوں پر نظر رکھیں۔
ضیا لنجار کا کہنا تھا بروقت کارروائی سے ہم نے اس بچی کو بچا لیا،ہماری پوری کوشش ہے کہ بچی دوبارہ سے اپنی تعلیم کا سلسلہ شروع کرے اور اس ملک کا روشن مستقبل بنے، چاہتے ہیں کہ یہ بچی اپنی خواہش کے مطابق ٹیچر بنے اور بچوں کو پڑھائے۔
اے آئی جی سی ٹی ڈی آزاد خان نے بتایا کہ کالعدم بی ایل اے اہلکار نے انسٹاگرام کے ذریعے بچی سے رابطہ کیا اور بچی کو واٹس اپ گروپ میں شامل کیا، بچی عام بچوں کی طرح سوشل میڈیا استعمال کرتی تھی، بچی کو شروع میں نفرت انگیز میٹریل دیا گیا اور پھر ذہن سازی کر کے اسے ریاست مخالف بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا بچی کو خودکش بمبار بننے سے بچالیا گیا، بچی کی مکمل ذہن سازی کی گئی اور کہا گیا کہ آپ سے بڑا کام لینا ہے، کراچی سے باہر بچی کو لے جایا گیا، کم عمری کی وجہ سے ہم بچی کو ملزم نہیں سمجھتے۔
اے آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ کراچی سے باہر اسنیپ چیکنگ کے دوران بچی کو پکڑا گیا، فیملی کو بلا کر تمام چیزیں بتائی گئیں، ہم انہیں کرمنل جسٹس سسٹم کی طرف نہیں لے کر جا رہے، ان کو پروٹیکشن دی جائے گی۔
