یہ مبینہ سائفر عمران خان کے دور حکومت کے آخری دنوں میں امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید کی جانب سے لکھا گیا جس میں پاکستانی سفیر اور امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ڈونلڈ لو کے درمیان ہونے والی ملاقات اور گفتگو کا احوال بیان کیا گیا ۔
عمران خان نے اس سائفر کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی حکومت امریکہ کے کہنے پر ختم کی گئی ہے۔
مبینہ سائفر میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈونلڈ لو نے پاکستانی سفیر کو کہا کہ ’’ یہاں (یعنی امریکہ) اور یورپ میں اس بات پر کافی تشویش پائی جاتی ہے کہ پاکستان یوکرین کے معاملے پر اتنے جارحانہ انداز میں نیوٹرل کیوں ہوگیا ہے ، ہمیں آپکا یہ موقف غیر جانبدار محسوس نہیں ہوتا، نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ساتھ گفتگو میں انہیں یہ واضح طور پر محسوس ہوا کہ یوکرین کے حوالے سے نیوٹرل رہنے کی یہ پالیسی وزیرِ اعظم(عمران خان) کی پالیسی ہے ، یہ پالیسی عمران نے اس لئے اپنائی ہے تاکہ وہ لوکل سطح پر عوام میں اپنا امیج ایسا بنا سکیں (کہ وہ امریکہ کے پریشر میں نہیں آتے اور آزاد خارجہ پالیسی چلا رہے ہیں) ‘‘ ۔
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site. https://t.co/nlX8uZCQRX pic.twitter.com/SYskivzAK9
— Drop Site (@DropSiteNews) May 17, 2026
پاکستانی سفیر نے لکھا ہے کہ انہوں نے ڈونلڈ لو کو جواب دیا کہ ’’یہ صورتحال کی درست تشریح نہیں ہے، پاکستان کا یوکرین سےمتعلق مؤقف مختلف اداروں کے درمیان تفصیلی مشاورت کا نتیجہ ہے ، انہوں نے ڈونلڈ لو سے پوچھا کہ کیا امریکہ کے سخت ردِعمل کی وجہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یوکرین کے معاملے پر ووٹنگ سے پاکستان کی غیر حاضری بنی ہے؟ ڈونلڈ لو نے واضح طور پر اس کی تردید کی اور کہا کہ اس سخت رد عمل کی اصل وجہ وزیرِ اعظم کا ماسکو کا دورہ تھا ۔ ‘‘
ڈونلڈ لو نے کہاکہ ’’ میرے خیال میں اگر وزیرِ اعظم (عمران خان) کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا کیونکہ روس کا دورہ وزیرِ اعظم کا ذاتی فیصلہ سمجھا جا رہا ہے ، ورنہ آگے چلنا مشکل ہوگا ، مجھے نہیں پتہ کہ یورپ اس کو چیز کو کیسے دیکھے گا، لیکن میرا اندازہ ہے کہ ان کا ردِعمل بھی ایسا ہی ہوگا‘‘۔
حکومتی زرائع سے اس بات کی ابھی تک کوئی تردید یا بیان سامنے نہیں آیا۔
