شارجہ سے کراچی آنے والا ر کارگو طیارہ 300 کلو میٹر دور سمندر میں گرگیا

ترجمان پی اے اے کے مطابق  کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا، طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ بیک وقت منقطع ہوا۔


شارجہ سے آنے والا  کارگو طیارہ کراچی  سے 300 کلومیٹر دور سمندر میں گرگیا۔ 

پاکستان نیوی نے حادثے کا شکار طیارے کے تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ پاک نیوی کا جنگی جہاز پی این ایس ذولفقار نے بھی لاپتہ طیارے کی تلاش شروع کردی۔

 ترجمان کے مطابق نجی کارگو طیارے میں عملے کے 5 افراد سوار تھے۔ طیارہ کو کیپٹن رضوان ادریش اور فرسٹ آفیسر فیصل جتوئی اڑا رہے تھے۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق  کارگو طیارہ اورماڑا کے قریب سمندر پر پرواز کے دوران لاپتا ہو ا، پاکستانی کارگو کمپنی کے طیارے کا رابطہ رات 9 بجکر 32 منٹ پرمنقطع ہوا۔ کارگو پرواز شارجہ سے کراچی آرہی تھی۔

ترجمان پاکستان ائیر پورٹ اتھارٹی( پی اے اے)  نے نجی کمپنی کے طیارہ حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شارجہ سے کراچی آنے والے نجی کارگو طیارے سے دورانِ پرواز رابطہ منقطع ہوا۔

ترجمان نے بتایا کہ کارگو طیارے نے پرواز کے دوران نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی، کراچی اے سی سی نے طیارے کو فوری رہنمائی فراہم کی، طیارہ اچانک تیزی سے نیچے آیا اور سمت بھی تبدیل کرلی۔

 ترجمان پی اے اے کے مطابق  کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا، طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ بیک وقت منقطع ہوا۔

فلائٹ جنرل ڈکلئیرشن کےمطابق طیارے کے پائلٹ محمد رضوان ادریس ہیں، طیارے کے فرسٹ آفیسر فیصل محمودجتوئی، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان ہیں۔

فلائٹ جنرل ڈکلئیرشن کے مطابق ائیرکرافٹ انجینیئر محمد حامد اور ائیرکرافٹ انجینیئر محمدعارف صدیقی سوار ہیں۔

 ترجمان پی اے اے کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر فوری طور پر فعال کردیا گیا،  لاپتا کارگو طیارے کی تلاش کے لیے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ مختلف ادارے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔


جدید تر اس سے پرانی
اشتہار