برطانیہ کے نومنتخب وزیراعظم اینڈی برنہم نے تمام بالغ شہریوں کے لیے تجویز کردہ ڈیجیٹل آئی ڈی کا منصوبہ مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے لیے مختص کیے گئے فنڈز اب مہنگائی میں کمی اور عوامی فلاحی اقدامات پر خرچ کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے شدید عوامی مخالفت اور ایک بڑی دستخطی مہم کے بعد اس ڈیجیٹل آئی ڈی اسکیم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس کے علاوہ برنہم شمالی سمندر میں تیل اور گیس کی موجودہ ڈرلنگ کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے بھی حامی ہیں۔
دوسری جانب، کنزرویٹو رہنما کیمی بیڈنوک نے اینڈی برنہم کی معاشی اور توانائی کی پالیسیوں کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا ہے۔
ڈیجیٹل آئی ڈی کا قانون کیا ہے؟
برطانیہ میں بالغوں کی ویب سائٹس اور دیگر مخصوص آن لائن پلیٹ فارمز پر عمر یا شناخت کی تصدیق کا مقصد بنیادی طور پر بچوں کا تحفظ اور آن لائن سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔
برطانوی حکومت نے بچوں کو انٹرنیٹ پر غیر مناسب، فحش اور نقصان دہ مواد سے بچانے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے تھے، جن میں آن لائن سیفٹی ایکٹ سرفہرست ہے۔ اس قانون کے تحت بالغوں کے لیے مخصوص یا فحش مواد فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز پر یہ قانونی ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ رسائی سے پہلے یقینی بنائیں کہ صارف کی عمر اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ ہے۔
اس کا بنیادی مقصد کم عمر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت اور تربیت پر منفی اثرات ڈالنے والے مواد تک ان کی آسان رسائی کو روکنا ہے۔
اس کے علاوہ جو ویب سائٹس یا ایپس ان حکومتی احکامات اور عمر کی تصدیق کے مؤثر نظام پر عمل درآمد نہیں کرتی ہیں، برطانوی ریگولیٹر ادارے آف کام کی طرف سے ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں یا ملک میں ان پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
اسی وجہ سے ویب سائٹس صارفین سے شناختی کارڈ، فیشل اسکین یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے عمر کی تصدیق کا مطابلہ کرتی ہیں۔
تاہم برطانیہ میں آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت بالغوں کی ویب سائٹس پر عمر کی تصدیق کے لیے شناختی دستاویزات یا فیشل اسکین لازمی قرار دینے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
شہریوں اور ڈیجیٹل رائٹس کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بچوں کے تحفظ کی آڑ میں بنایا جانے والا یہ قانون عوام کی نجی زندگی اور شخصی آزادی پر براہِ راست حملہ ہے۔ ناقدین کے مطابق اس سے حکومت اور بڑی کمپنیوں کے پاس شہریوں کا حساس ڈیٹا جمع ہو جائے گا، جس سے آن لائن سکیورٹی کے سنگین خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
