![]() |
| گیٹی امیجز |
انقرہ: نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی ملاقات نے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری دفاعی تعطل کے خاتمے کی امیدیں جگا دی ہیں۔
ملاقات کے دوران امریکی صدر نے اشارہ دیا ہے کہ امریکہ، ترکی پر سنہ 2020 میں عائد کی گئی ’سی اے اے ٹی ایس اے‘ (CAATSA) پابندیاں ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ پابندیاں اس وقت لگائی گئی تھیں جب ترکی نے روس سے جدید فضائی دفاعی نظام ایس-400 خریدا تھا، جسے واشنگٹن نے نیٹو کے دفاعی ڈھانچے کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ترک صدر کی قیادت میں ترکی کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعلقات میں ایک نیا باب کھلے گا۔ نیٹو اتحاد سے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ ترکی کے ساتھ تعلقات کی بحالی ان کی اولین ترجیح ہے۔
دوسری جانب، ترک صدر رجب طیب اردوان نے اس ملاقات کو انتہائی سودمند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی صدر ٹرمپ کے ساتھ بات چیت نے باہمی تعاون کے لیے ایک مثبت توانائی پیدا کی ہے۔ ترک صدر نے امید ظاہر کی کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں ایف-35 جنگی طیاروں کے معاملے پر بھی جلد کوئی مثبت فیصلہ سامنے آئے گا۔
اس اہم ملاقات میں صرف دو طرفہ تعلقات ہی نہیں، بلکہ عالمی چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے روس-یوکرین تنازعہ اور غزہ میں جاری صورتحال پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ترک صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ترکی، امریکہ اور ایران کے تعلقات کو مستحکم کرنے اور عالمی امن کے قیام کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔
سفارتی حلقے اس پیش رفت کو امریکہ اور ترکی کے درمیان برسوں سے جاری تناؤ میں ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں، جس سے نیٹو کے دفاعی اتحاد کو مزید مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
