نیٹو سربراہی اجلاس: ترک صدر اردوان کا عالمی رہنماؤں کو ریوالور کا تحفہ، سیکورٹی ٹیمیں پریشان

اے ایف پی


انقرہ: ترکیہ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے عالمی رہنماؤں کو تحفے میں دیے گئے 'ریوالورز' نے سفارتی حلقوں میں حیرت اور بحث کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے انکشاف کیا کہ اجلاس کے اختتام پر انہیں اور دیگر عالمی رہنماؤں کو تحفے میں ایک ایسا ریوالور پیش کیا گیا جس پر ان کا نام کندہ تھا، اور اس کے ساتھ 6 زندہ کارتوس بھی موجود تھے۔ تحفے کے ہمراہ ایک نوٹ بھی تھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ہتھیار برآمدی کنٹرول (export controls) سے مستثنیٰ ہیں۔

یہ تحفہ نہ صرف غیر معمولی تھا بلکہ اس نے مختلف وفود کی سیکورٹی ٹیموں کے لیے ایک دردِ سر بھی پیدا کر دیا، کیونکہ اکثر ممالک میں آتشیں اسلحہ کی بین الاقوامی منتقلی کے سخت قوانین موجود ہیں۔

 برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر، جرمن چانسلر فریڈرک مرز اور ڈچ وزیراعظم روب جیٹن کے تحفے فی الحال انقرہ میں ہی موجود ہیں کیونکہ انہیں اپنے ممالک لے جانے کے لیے قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا۔

کینیڈین حکام کے مطابق وزیراعظم مارک کارنی نے ریوالور تو ساتھ لے لیا، لیکن گولیاں ترکیہ میں ہی چھوڑ دیں۔

سویڈش وزیراعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ ریوالور کو تمام قانونی ضابطوں کی تکمیل کے بعد ہی سویڈن منتقل کیا جائے گا۔

ہنگری کے وزیراعظم پیٹر مگیار نے بھی سوشل میڈیا پر اس تحفے کی تصدیق کی ہے۔ یہ تحفہ ایسے وقت میں دیا گیا جب سربراہی اجلاس کے دوران یوکرین، ایران اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات جیسے انتہائی اہم اور حساس موضوعات زیر بحث تھے۔

سفارتی ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ ایک پرامن اتحاد کے سربراہی اجلاس میں ہتھیاروں کا تبادلہ کیوں کیا گیا، جبکہ سرکاری دوروں کے دوران عام طور پر روایتی اور علامتی تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ صدر ایردوان کا اس غیر روایتی تحفے کے پیچھے کیا پیغام یا مقصد تھا۔

جدید تر اس سے پرانی
اشتہار