ہالینڈ کی پارلیمنٹ کے سابق رکن یورم وان کلیورن (Joram van Klaveren) کا اسلام کی جانب سفر کسی عام کہانی سے بالکل مختلف ہے۔
ایک ایسے شخص کے لیے جو طویل عرصے تک اسلام کے شدید مخالف رہے اور جنہوں نے اسلام کے خلاف ایک کتاب لکھنے کا فیصلہ کر رکھا تھا، وان کلیورن کے مطابق اسلام کے دامن میں پناہ لینا ایک ایسا حیران کن موڑ تھا جس نے انہیں حیرت میں ڈال دیا۔
وان کلیورن کا ارادہ اسلام کے بارے میں ایک سخت تنقیدی کتاب لکھنے کا تھا، جس کے لیے وہ مسلسل تحقیق کر رہے تھے۔ ان کا مقصد اسلام کے خلاف مواد اکٹھا کرنا اور اس کے پہلوؤں کو منفی انداز میں پیش کرنا تھا۔
تاہم، جیسے جیسے وہ تحقیق کی گہرائیوں میں اترتے گئے، ان کا سامنا اسلام کی ان تعلیمات سے ہونے لگا جن کے بارے میں وہ اب تک لاعلم یا غلط فہمیوں کا شکار تھے۔ تحقیق کے دوران وہ جتنا زیادہ اسلام کا مطالعہ کرتے گئے، ان کے ذہن میں موجود شکوک و شبہات آہستہ آہستہ ختم ہوتے گئے۔
اس طویل اور فکر انگیز مطالعے کے دوران، ایک ایسا وقت آیا جب انہیں اپنی سوچ میں نمایاں تبدیلی محسوس ہوئی۔ ان کے دل کے دروازے اسلام کی آفاقی تعلیمات اور اس کے منطقی فلسفے کے لیے کھل گئے۔ کتاب لکھنے کے لیے شروع کی گئی تحقیق، ان کے لیے ہدایت کا ذریعہ بن گئی اور بالآخر انہوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ تبدیلی صرف ایک عقیدے کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس نے تعصب کی عینک اتار کر حقیقت کی تلاش کی تو اسے دینِ فطرت کا راستہ مل گیا۔
آج یورم وان کلیورن اسلام کے بارے میں پائے جانے والے غلط تصورات کو دور کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں یہ پیغام دیتے ہیں کہ اسلام کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے اس کا صحیح مطالعہ کرنا کتنا ضروری ہے۔
